سونے کی لعنت – ایک بھیانک انجام (حتمی ٹوئسٹ کے ساتھ) ابتداء: (گھپ اندھیری رات، طوفانی سمندر، ہوا میں پراسرار سرسراہٹ۔ ایک خستہ حال کشتی، جس میں ایک مرد بیٹھا ہے— ایتان کراس ۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا، خون سے داغ دار نقشہ، آنکھوں میں لالچ، مگر کہیں نہ کہیں… ایک انجانا خوف بھی۔) راوی (مدھم، خوفناک آواز میں): "کچھ خزانے ایسے ہوتے ہیں، جو لینے والے کو نہیں، لینے والے کو خود خزانہ بنا دیتے ہیں…" پہلا باب: خزانے کی تلاش ایتان سالوں سے خزانے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ لیکن جب اسے سنہری کھائی کی کہانی ملی، تو سب کچھ بدل گیا۔ کہا جاتا تھا کہ وہاں بے شمار سونا دفن ہے ، مگر جو بھی اسے ہاتھ لگاتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آتا… یا اگر آتا ہے، تو وہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔ مگر ایتان کو صرف سونا چاہیے تھا۔ دوسرا باب: لعنتی خزانہ ایتان اور اس کی ٹیم ہمالیہ کی برفانی وادی میں پہنچی۔ جیسے ہی وہ مندر کے قریب پہنچے، ہوا میں سرگوشیاں گونجنے لگیں ۔ ڈاکٹر میرا (گھبرا کر): "یہ جگہ… یہ زندہ لگ رہی ہے!" جان (دروازے کو دیکھتے ہوئے): "یہ مندر ہمیں دیکھ رہا ہے…" ایتان نے خبردار...
رابعہ ایک ماہر آثار قدیمہ تھیں، جنہیں قدیم تہذیبوں کے رازوں کو کھوجنے کا جنون تھا۔ ان کی نئی مہم انہیں سندھ کے صحرا کے دل میں لے گئی، جہاں افواہوں کے مطابق ایک کھوئی ہوئی بادشاہت کے خزانے چھپے ہوئے تھے۔ دن کی تپش اور راتوں کی یخ بستگی کے باوجود رابعہ اور ان کی ٹیم نے کھدائی جاری رکھی۔ ہفتوں کی محنت کے بعد آخرکار انہیں ایک زیرِ زمین دروازے کا سراغ ملا۔ دروازہ پر عجیب و غریب نشانات بنے ہوئے تھے، جنہیں رابعہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جسارت سے دروازہ کھولتے ہی ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور رابعہ ایک وسیع ہال میں داخل ہوئیں۔ ہال کی دیواریں مورتوں سے سجی تھیں، جو کسی غیر معروف تہذیب کی کہانیاں بیان کر رہی تھیں۔ ہال کے وسط میں ایک سنگھاسر رکھا تھا، جس پر ایک سنہری صندوقچہ رکھا ہوا تھا۔ رابعة بے حد جوش میں تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا انہیں انتظار تھا۔ وہ آہستہ سے صندوقچہ کھولنے لگیں تو اچانک ایک تیز روشنی پھیلی اور صندوقچے سے ایک ہولوگرام جیسی شکل نمودار ہوئی۔ یہ ایک خوبصورت عورت کی شکل تھی، جو قدیم لباس पहने (پہنے) ہوئی تھی۔ اس نے رابعہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،...